قلب ماہیت
(مشرقی پاکستان کے لیے ایک نظم)
……….
تمہارے سائے مری تمنا کے جنگلوں میں بھٹک گئے ہیں
ابھی ہواؤں کی آستینوں میں خواہشوں کے کنول دھڑک کر ہر ایک شے کو غبارِ باراں کی ٹھنڈکوں کا لباس دیں گے
ابھی تمہارے نقوشِ نگراں میں ریت ہوتے مسافروں کے حواس پھیلیں گے سایہ سایہ
سمندروں سے بھی گہری آنکھیں
پلک پلک پر اداس خوشبو کے آئنوں میں
سکوتِ آتش ابل پڑے گا
میں زیرِ لب خامشی میں کھوئے حروفِ بیدار جانتا ہوں
جہانِ تیرہ میں کرنیں چننے کی آرزو میں
لرزتی شاخوں کا ریزہ ریزہ فنا کی موجوں میں بہہ گیا ہے
یہ میں ہوں جس نے تمہارے ماتھے پہ ہونٹ رکھ کر
تمہارے پورے بدن کی سرخی ذخیرہ کرلی
یہ میں ہوں جس نے تمہارے لفظوں کی سرد جھیلیں
مہیب شعلوں کو سونپ دی ہیں
یہ میں ہوں جس کی رگوں نے پھیلے مہین شیشے
تمہارے سانسوں میں حل کیے ہیں
گلے میں بکھرے ستارے رخسار
چھلنی چھلنی !!
